aik thi salah episode # 12 - Sad Urdu Novel



aik thi salah

Episode # 12

”کیسی ہو حو ر ین“ مہما نو ں کے جا نے تک مغر ب کا و قت ہو گیا تھا وہ جب سے کمر ے میں آ ئی تھی با ہر نہیں گئی تھی اسے اس شخص سے و یسے ا تنی نفر ت ہو تھی ا و پر اس کے سا منے ر ہنا ا ور بھی عذاب تھا ا س کے لیے انا بیہ بھی ا سکے پا س نہیں آ ئی تھی شا ید د ا دی کی و جہ سے یا پھر ا پنی ما ں کے سا تھ کا م پر لگی تھی اب ان کے جا نے کے بعد وہ د ا دو کے پا س جا نے کے لیے ا ٹھی تھی ا پنے با لو ں کو سمیٹتی ا ن میں کیچر لگا رہی تھی جب پیچھے سے آ نے و ا لی آ وا ز پر مڑ ی تھی سا منے اسکا بھا ئی ا سجدکھڑ ا تھا کم ا زکم اس کے تو قع ا سے تو نہیں تھی۔



”ٹھیک ہو ں“ وہ ا سے دو لفظی جو ا ب د ے کر د و با رہ ا پنے با لو ں کو رو ل کر نے لگی تھی۔


تمہیں پتہ ہے مجھے آ ئے ا تنے دن ہو گئے اور تم ا یک با ر بھی مجھ سے ملنے نہیں آ ئی نہ ہی میر ا حا ل چا ل پوچھا“ وہ اند ر آ تا ہو ا بو لا تھا اس کی نظر سا منے پڑ ے تحا ئف و الے بیگ پر پڑ ی جو وہ اس کے لیے لا یا تھا


د یکھ کر ہی لگ ر ہا تھا بیگ کو کھو لنے کی ز حمت بھی نہیں کی گئی تھی حو ر ین کچھ نہیں بو لی تھی ا لٹا اس سے منہ پھیر کر کھڑ ی ہو گئی تھی ا سجد کے لہجہ میں شکوہ تھا جو صا ف و ا ضع تھا۔


”تم نے میر ے لا ئے تحفے نہیں د یکھے“ وہ سڈی ٹیبل کے پا س پڑ ی چیئر پر بیٹھتا ہو ا بو لا تھا۔


” میں بز ی تھی ا تنا ٹا ئم نہیں تھا میر ے پا س“ وہ بے ر کھی سے بو لی تھی با لو ں کو وہ با ند ھ چکی تھی اور خو د کو مصر و ف د یکھا نے کے لیے د ر ا ز سے فا ئلیں نکا ل ر ہی تھی۔


”حو ر ین میں جا نتا ہو ں تم مجھے پسند نہیں کر تی لیکن میں تمہا ر ا بھا ئی ہو ں کو ئی د شمن نہیں“ وہ جوفا ئلیں نکال کر بیڈ
پر بیٹھ چکی تھی اس کی با ت پر ا یک لمحے کے لیے نظر یں ا ٹھا کر ا سکی طر ف د یکھا تھا۔



”آ ج جب تم مہما نو ں کے سا منے آ ئی تھی تو تمہا ر ا چہر ہ د یکھ کر لگ ر ہا تھا تمہیں ا س با ت سے بے خبر ر کھا گیا تھا کہ وہ تمہا رے ر شتے کے لیے آ ئے تھے“ وہ ا یک پل کے لیے رکا تھا ”ا گر تم خو ش نہیں ہو یا پھر تمہیں کسی نے فو ر س کیا ہے تو تم مجھے کہہ سکتی ہو کھل کر میں و عد ہ کر تا ہو ں تمہا ر ا پو را سا تھ دوں گا“ وہ اس کے چہر ے کو غو ر سے د یکھتا ہو بو لا تھاحو ر ین تو حیر ت کے سمند ر میں تھی یہ سب تو ا س نے ا پنی د ا دی یا پھر اپنی ما ں سے متو قع کیا تھا ا سجد سے تو بلکل نہیں۔


ا سجد سے تو ا سے بچپن سے ہی چڑ تھی ا یک تو وہ اس سے ہر کھا نے کی چیز یں چھین لیا کر تا تھا د و سر ا اس کے باپ کو وہ بہت عز یز تھا ہمیشہ ا سے ا پنے سا تھ لگا کر ر کھتا تھا جو کہ اس کی خو ا ہش تھی کہ کبھی وہ اس سے بھی اسی طر ح پیا ر کر تا ان و جو ہات کی و جہ سے وہ آ ہستہ آ ہستہ اس سے دور ہو تی چلی گئی حا لا نکہ جب ا سجد تھو ڑا سمجھدا ر ہو ا تھا تب سے ا س نے پو ر ی کو شش کی تھی ا س سے دو ستی کر نے کی اسے چھو ٹی بہن کی طر ح ٹریٹ کر نے کی وہ جب بھی با ہر سے آ تا اس کے لیے ا تنی چیز یں لا تا جنہیں ہربا روہ بنا د یکھے اس کے


سا منے دو سر و ں میں با نٹ د یا کر تی تھی مگر وہ پھر بھی ہر با ر اس کے لیے کچھ نہ کچھ لا زمی لا تا تھا۔


”حو ر ین“ ا سے چپ د یکھ کر اسے پھر سے پکا را تھا جس نے نظر یں ا ٹھا کر اس کی طر ف د یکھا تھا آ نکھو ں میں ہلکی سی نمی تھی۔


”جب بھی تمہیں آ سا ن لگے آ کر مجھ سے با ت کر سکتی ہو“ وہ اس کو حو صلہ د یتا ہو بو لا تھاکچھ د یر اس کی طرف سے کو ئی جواب نہ پا کروہ بو لا تھا اور ا ٹھ کر کمر ے سے چلا گیا جب کے حو ر ین گم صم سی و ہیں بیٹھی رہ گئی تھی۔


.......................


”دا دو مجھے آ پ سے با ت کر نی ہے“ ا سجد کے جا نے کے بعد وہ دا دی کے پا س آ ئی تھی کر نے وہ مغرب کی نما ز پڑ ھ کر ا پنے بیڈ پر بیٹھی تسبیح پڑ ھ رہی تھی۔


”ہا ں نہ آ ؤ ا د ھر بیٹھو آ ر ا م سے با ت کر یں گے“ وہ بیڈ پر اس کے لیے جگہ بنا تے ہو ئے بو لی تھی وہ بنا کچھ کہے ان کے پا س آ کر بیٹھ گئی۔


”ہا ں اب بتا ؤ کیا با ت ہے“ تسبیح کے د انے گر ا تے ہو ئے بو لی تھیں جبکہ حو ر ین اند ر سے تھو ڑی گھبر ا ر ہی تھی۔


”د ادو جو لو گ آ ج آ ئے تھے آ پ جا نتی ہیں کیا“ وہ ہمت کر تے ہو ئے بو لی تھی۔


”ہا ں تمہا ر ے دا دا کے پر ا نے جا ننے و ا لے ہیں“ وہ حیر ا ن نہیں ہو ئی تھی جا نتی تھی وہ اس با ر ے میں ضرور بات کر ے گی۔


”تو دادو کیا آ پکو معلو م ہے کہ اس آ دمی پر کیس چل ر ہا ہے“ وہ حیر ا ن ہو رہی تھی ا یسے لو گو ں سے دادا ا بو کا ر شتہ کیسے ہو سکتا تھا ”وہ بھی غیر قا نو نی طو ر پر جسما نی ا عضا فر و خت کر نے کا“ وہ انہیں تفصیل بتا تے ہو ئے انکو چہر ہ کے کو د یکھ ر ہی تھی جس پر کو ئی خا ص تا ثر نہیں تھا۔


”ہا ں بیٹا تمہا ر ے جا نے کے بعد ا س نے مجھے پہلے ہی بتا د یا تھا وہ تو کچھ بھی نہیں ہے کچھ لو گ ہیں جن


سے ان کی تر قی بر د ا شت نہیں ہو ئی تو ا یسے ہی اس بے چا ر ے پر جھو ٹا ا لز ا م ہے اور کچھ نہیں اور ا یک بار پہلے بھی وہ کیس جیت گیا تھا اب بھی ہو جا ئے گا“ وہ ا تنے یقین سے بو لی تھی ا گر حو ر ین نے اس کا ا صل چہر ہ نہ د یکھا ہو تا تو شا ید وہ بھی ما ن جاتی۔


”دا دو وہ جھو ٹ بو ل ر ہا ہے بھلا کو ئی مجر م بھی قبو ل کر ے گا کہ وہ مجر م ہے میں نے خو د اس کی فا ئل د یکھی ہے اس کی و جہ سے پتہ کتنے معصو موں کی ز ند گیا ں بر با د ہو ئی ہیں اور پتہ نہیں کتنے لو گ جا ن سے گئے ہیں اور آ پ نے کہا وہ پہلے بھی کیس جیت ہے آ پکو معلو م بھی ہے وہ کیسے جیتا ہے“وہ سو ا لیہ نظر و ں ان کی طر ف د یکھ ر ہی تھی جو کہ اب پہلے کی طر ح پر سکو ن تھی۔


”اگر د ا دو آپ کو مجھ پر یقین نہیں تو آ پ ا شر ف ا نکل سے پو چھ لیں وہ ہی اب انکا کیس ہینڈل کر ر ہے ہیں“وہ د ادو کے ہا تھ پکڑ تے ہو ئے بو لی تھی۔


”حو ر ین تم و ہم کر ر ہی ہو میں جا نتی ہو ں ا نکو کا فی عر صے سے تمہیں ا پنی د ا دی پر بھر و سہ نہیں ہے کیا“ وہ اس کے ہا تھو ں سے ا پنے ہا تھ نکا لتے ہو ئے بو لی تھی۔


”دادو ایسی با ت نہیں ہے اور آ پ جا نتی ہیں وہ لڑ کا بھی ٹھیک ا نسا ن نہیں ہے وہ ڈ ر یگس لیتا ہے“اسے سمجھ نہیں آ ر ہی تھی انہیں کیسے ر ا ضی کر ے تو غلطی سے اس کے منہ سے نکل گیا اب کی با ر وہ بھی چو نک کر پڑی تھی۔


”تمہیں کیسے پتہ حو ر ین اس لڑ کے کے با ر ے میں“ تسبیح رک چکی تھی اور اب آ نکھیں اس پر جمی تھی وہ کتنی بڑ ی غلطی کر چکی تھی ا س کا ا حسا س ا سے اب ہو ر ہا تھا۔


”حو ر ین میں تم سے پو چھ ر ہی ہو ں تمہیں کیسے پتہ اس کے با رے وہ شر و ع سے ر ہتا ہی با ہر ہے اور تمہیں تو اس ر شتے کا پتہ ہی آ ج چلنا چا ہیے تھا میں نے منع کیا تھا کو ئی تمہا رے آ گے ذکر نہ کر یں“ اب کی با ر وہ سختی سے بولی تھی اور حو رین گھبر ا گئی تھی۔


”دا دو وہ.....وہ عا بد ا نکل نے بتا یا تھا“ وہ اس و قت کچھ ا ور سو چ ہی نہیں سکی تھی تو سچ ہی کل گیا تھا۔


”وہ کہا ں ملا تمہیں اور مجھے پہلے کیو ں نہیں بتا یا تم نے“ اب کی با ر ان تا ثر ا ت بتا ر ہے تھے و ہ اس کو شا ید ہی چھو ڑتی بنا پو ر ی بات جا نے حو ر ین بیڈ سے ا ٹھ گئی تھی۔


”وہ ا نہو ں نے کا ل کر کے بلا یا تھا مجھے اس با رے میں بتا نے کے لیے“ اس ا نا بیہ کا جا ن بو جھ کر چھپا یا تھا و ہ نہیں چا ہتی تھی اس کی و جہ سے وہ بلا و جہ ما ر ی جا تی۔


”سن رہے ہیں ا بر ا ہیم صا حب میں نہ کہتی تھی کہ تمہا رے وہ ر شتہ د ا ر ٹھیک نہیں ہے پہلے اس کی ما ں میرے گھر کے پیچھے پڑ ی تھی وہ کا میا ب نہ ہو سکی تو ا سکا بیٹا شر و ع ہو گیا میر ی بچی کو میر ے خلا ف بھڑ کا نا شر و ع کر د یا“ اب کی با د د ا دو پو ر ے غصیلے لہجے میں کمر ے میں آ تے ابر ا ہیم سے بو لی تھی جو نما ز پڑ ھ کر کب آ ئے حو ر ین کو نہیں پتہ چلا تھا ا ن کے پیچھے حو ر ین کے و ا لد حما د بھی تھے۔


”یہ کیا تما شا لگا یا ہو ا ہے حو ر ین تم نے“ ابر ا ہیم کی بجا ئے حما د بو لا تھا آ و ا ز میں غصہ صا ف تھا۔


”دادو ا یسا کچھ نہیں ہے وہ تو جو بھی کہہ ر ہے تھے میر ے بھلے کے لیے کہہ ر ہے تھے“ وہ ان کی بجا ئے د ادو سے مخا طب ہو تے ہو ئے بو لی تھی۔


”لو جی اب تمہیں وہ اپنے خیر خو اہ لگنے لگ گیا ہے اور ہم تو تمہا ر ے د شمن ہو گئے ہو گے ہا ں نہ“ وہ اب بھی ا سی طر ح غصہ میں تھی ”آ ج تک ا س گھر میں جتنی بھی شا د یا ں ہو ئی ہیں ان سب کا فیصلہ میں نے کیا ہے اور کسی کی مجا ل نہیں ہوئی اس پر ا نگلی ا ٹھا نے کی اور د یکھ لو ان میں سے کو ئی بھی نا خو ش ہے کیا“


”دا دو آ پ کا نا یا ب پھپھو کے با رے میں کیا خیا ل ہے ان کا بھی فیصلہ آ پ نے ہی کیا تھا نہ“ اب کی با ر وہ بھی بنا لحا ظ کیے بو لی تھی۔


”ز با ن د یکھ ر ہے ہو ا پنی بیٹی کی حما د ا س لیے پا لی تھی میں نے پھو لو ں کی طر ح کے ا یک د ن میرے سر پر نا چے گی“ وہ آ نکھو ں میں آ نسو لا تی ا پنے بیٹے سے بو لی تھی آ و ا ز یں سن سا ر ے گھر کے فر د ا کٹھے ہو چکے


تھے جن میں ا نا بیہ اور ا سجد بھی تھے ہا ں ا لبتہ نا یا ب پھپھو نہیں تھی وہ کم ہی گھر کے معا ملا ت میں د خل د یتی تھی۔


”دا دو میر ی با ت“ان کو ر و تا د یکھ کر حو ر ین بھی ا یک با ر نر م پڑ گئی تھی۔


”بکو ا س بند کر و ا پنی“ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بو لتی اسکا باپ اس کی طر ف بڑ ھا تھا ما ر نے کے لیے جس کو ا سجد نے آ گے بڑ ھ کر روکا تھا نہیں ا نکا تھپڑ حو ر ین کے منہ پر کب کا لگ چکا ہو تا۔


”تمہیں ہی شو ق چڑ ھا تھا ا سے لا پڑ ھا نے کا تا کہ یہ کل کو ہم سے بد تمیز ی کر ے جا کے ہما ر ے د شمنو ں سے ملے اور آ کر ہم سے سو ا ل کرے“ وہ ا لٹا ا سجد پر چڑ ھ د و ڑے تھے اور حو ر ین کو حیر ت کا جھٹکا لگا تھا اسے آ ج تک یہ ہی لگا تھا کہ د ا دو کی و جہ سے وہ ا پنی پسند کی پڑ ھا ئی کر ر ہی تھی ا ور نہ ہی کبھی انہو ں نے اس کی غلط فہمی د ور کر نے کی کو شش کی تھی۔


”با با بچی ہے غلطی ہو گئی حو ر ین ا پنے کمر ے میں جا ؤ“ وہ حو ر ین سے بو لا تھا جو کہ بنا کچھ کہے ا پنے کمرے میں آ گئی تھی۔


ا بر ا ہیم ا س سا رے معا ملے میں کچھ نہیں بو لا تھا بلکہ چپ چا پ عا بد کو کا ل کر کے ا سی و قت گھر بلا یا تھا۔


......................
”تم یہ سب کیو ں کر ر ہے ہو عا بد“ ابر ا ہیم نے سا منے بیٹھے عا بد سے پو چھا تھا ابر ا ہیم نے جب کا ل کی تب وہ شا م کا کھا نا کھا نے کی تیا ر ی کر رہے تھے ز ین ا بھی گھر نہیں آ یا تھا وہ چا ہتا بھی نہیں تھاکہ ز ین ان کے سا تھ ا س گھر میں جا تا جس طر ح ا سے بلا یا گیا تھا یہ نا ر مل نہیں تھا اور ز ین جو ا ن خو ن تھا خو د پر قا بونہ کر پا تا تو معا ملہ مز ید بگڑ سکتا تھا تو ا س کا جا نا تو دو ر کی با ت اس کو تو پتہ بھی نہیں لگنا چا ہیے تھا وہ کا ل سنتے ہی نکل لیے تھے اور اب لا ؤ نج میں بیٹھے تھے جہا ں غصے میں بھر ی سا جد ہ بیگم کے علا و ہ گھر کے سب فر د تھے سو ا ئے حو ر ین ا نا بیہ اور نا یا ب کے۔
”میں کیا کر ر ہا ہو ں ما مو ں“ وہ نہیں جا نتا تھا آ خر ا یسا کیا ہو ا تھا جو اسے اس طر ح بلا یا گیا تھا۔
”جیسے تمہیں تو کچھ پتہ ہی نہیں ہے“ ا بر اہیم کے بو لنے سے پہلے ہی سا جد ہ بیگم بو لی تھی۔
”تم چپ کر و میں با ت کر ر ہا ہو ں نہ“ اب کی ا بر ا ہیم بھی ذر ا سخت لہجے میں سا جد ہ سے بو لے تھے۔
”تم نے حو ر ین کو کا ل کر کے بلا یا ا ور اس سے پتہ نہیں کیا غلط سلط بو لا ہے کہ وہ ا پنی د ا دو سے بد تمیزی پر اتر آ ئی“ اوہ تو یہ با ت تھی عا بد نے سا جد ہ کی طر ف د یکھا تھا ا ور ا یک پل لگا تھا ا نہیں سمجھنے میں کہ یہ سا ر ا کیا د ھر ا ان کا ہے۔
”تم ا س د ن یہا ں آ ئے جب یہا ں تمہا ر ی د ا ل نہیں گلی تو تم نے حو ر ین کو بھڑ کا نا شر و ع کر د یا تمہیں کیا لگتا ا س طر ح تم کا میا ب ہو جا ؤ گے“ اب کی با ر حما د بو لا تھا وہ بھی ما ں کی طر ح غصہ میں ہی تھا۔
”میر ا نہیں خیا ل ما مو ں کے میں نے کو ئی غلط با ت کی ہے“وہ ٹا نگ پر ٹا نگ ر کھتے بڑ ے آ ر ا م سے بولے تھے”اس د ن میں آ پکو سمجھا نے آ یا تھا کہ وہ لو گ صیح نہیں ہیں اور حو ر ین کو بھی میں نے صر ف یہ ہی بتا یا تھااور میر ا نہیں خیا ل کے میں نے ا یسا کو ئی گنا ہ کیا جس کے لیے مجھے یو ں کٹہر ے میں کھڑ ا کر یں“ اور اسی ا طمینا ن سے ا نہو ں نے ا پنی با ت پو ری کی تھی۔
”اور تم نے ٹھیکہ ا ٹھا یا ہے سب کا بھلا کر نے کا وہ ہما ر ی بچی ہے اس کے لیے کیا بہتر ہے ہم جا نتے ہیں تمہیں ضر و رت نہیں“سا جد ہ بو لی تھی ابر ا ہیم کے منع کر نے کے بعد بھی اس با ر ا نہو ں نے کچھ نہیں کہا تھا
”آ پ جا نتی ہیں میں نے حو ر ین کو ہمیشہ ا پنی بچی کی طر ح د یکھا ہے اور ر ہی آ پکے بھلے کی با ت جیسے میں جا نتا نہیں ہو ں جیسے آ پ نے ا پنی بیٹی کا بھلا کیا تھا و یسے ہی اس با ر حو ر ین کا کر ے گی“ وہ بنا کو ئی لحا ظ کیے ان سے مخا طب ہو ئے تھے۔
”ہا ں جیسے ہم تو تمہیں جا نتے ہی نہیں ہیں کہ تم کیا چا ہتے ہو پر تم جو چا ہتے ہو وہ کبھی نہیں ہو سکتا“ سا جد ہ بیگم بو لی تھی۔
”اور کیا چا ہتا ہو ں کہ حو ر ین کی شا د ی کسی ا چھے ا نسا ن سے ہو جو کہ شا ید آ پ نہیں چا ہتی ہو ں“ وہ سید ھا ہو کر بیٹھتے ہو ئے بو لے تھے لہجے میں تلخی تھی۔
”اور وہ ا چھا ا نسا ن تمہا را بیٹا ہو سکتا ہے بس جیسے تم تھے میر ی بیٹی کے لیے تمہیں کیا لگتا ہے ہم سب بھو ل گئے ہیں“ اب کی با ر طنز تھاجو کہ سید ھا ان کی ذ ات پر ما را گیا تھا۔
”کو ئی بھی ا نسا ن ا چھا ہو سکتا ہے بشر طیکہ وہ آ پکی مر ضی کا نہ ہو“ طنز کا جو اب طنز سے د یا تھا ”آ پ کو کیا لگتا ہے کہ میں میر ی ما ں کی و جہ سے چپ ہو گیا تھا تو میں گنا ہ گا ر ہوگیا حقیقت کیا تھی جیسے آ پ جا نتی ہی نہ تھی“ ا وہ تو کیا حقیقت تھی“ وہ تنفر سے بو لی تھی با قی سب چپ تھے کچھ سمجھ نہیں پا ر ہے تھے با ت کا ر خ کس طر ف مڑ گیا تھا ا ور جو جا نتے تھے وہ خا مو شی کو بہتر سمجھ ر ہے تھے۔
”حقیقت یہ ہے کہ آ پ نے پہلے بھی ا پنی ذ ا ت کے لیے دو سر و ں کی ز ند گیا ں بر با د کی ہیں اور ا یک کو تو سر ے سے ہی مٹا د یا جا نتی تو ہو گی کس کی با ت کر رہا ہو ں صا لحہ ا بر ا ہیم ا تنی کمزور یا د ا شت تو“ ان کی بات د ر میا ن میں ہی تھی کہ وہ تلملا تی ہو ئی ا ٹھی تھی وہ کچھ بو لتی ا س سے پہلے ا بر ا ہیم چلا یا تھا۔
”عا بد میں نے آ ج تک تمہا ر ا جو بھی لحا ظ کیا ہے وہ صر ف اور صر ف ا پنی بہن کی و جہ سے کیا ہے میر ے صبر کو مز ید مت آ ز ما ؤ“ و ہ خو ب غصے میں تھے ”آ ج کے بعد اس گھر میں جو بھی ہو اس سے تمہا ر ا کو ئی و ا سطہ نہیں ہم حو ر ین کے سا تھ جو بھی کر ے تمہا ر ے لیے بہتر ہے کے چلے جا ؤ اور د و با ر ہ کبھی مت آ نا“ انہو ں نے با قا عد ہ د ر و ا زہ کی طر ف ا شا ر ہ کر تے ہو ئے کہا تھا۔
”ما مو ں آ پکو معلو م ہے آ پ بز دل ہیں د عا کر تا ہو ں جب بھی کبھی آ پ کو سچ پتہ چلے تب بھی آ پ ا یسے ہی اس سے منہ چر ا سکے جیسے ہر د فعہ کر تے ہیں آ پکی بیٹی تھی وہ“ وہ ان کے سا منے کھڑ ے ہو کر ان کی آ نکھو ں میں آ نکھیں ڈ ا ل کر بو لا تھااور ا جد ہ بیگم کے علا وہ سب حیر ت میں تھے اور ا بر ا ہیم سکتے میں تھا جیسے جنہیں و یسے چھو ڑ کر وہ لا ؤ نج سے نکل گئے تھے وہ لا ؤ نج سے با ہر آ ئے تو سا منے حو ر ین کھڑ ی تھی جو کہ شایدشو ر کی آ و ا ز سن کر آ ئی تھی اس کا چہر ہ بتا ر ہا تھا ا سے علم نہیں تھا ا ن کے آ نے
”ا پنا فو ن بھو ل آ ئے تم“ آ و ا ز پر پیچھے مڑ کر د یکھا تو سا جد ہ کھڑ ی تھی ہا تھ میں فو ن لیے جو کہ وہ غصے میں اند ر بھو ل آ ئے تھے جب کہ سا جد ہ کو د یکھ کر حو ر ین بر آ مد ے میں لگے پلر کے پیچھے ہو گئی اور تھو ڑا سا ا د ھر ہو کر د یکھنے لگی تھی عا بد ا نکل کی اس طر ف پیٹھ تھی ا ور سا جد ہ کا چہرہ وہ بھی ا س طر ح کہ وہ حو ر ین کو نہیں د یکھ سکتی تھی۔
”آ ج تمہیں ا چھے سے ا ند ا ز ہ ہو گیا ہو گا کہ مجھ سے ٹکر لینے کا ا نجا م کیا ہو گا“ وہ ز ہر یلی مسکر ا ہٹ سے بولی تھی اور حو ر ین کو لگا تھا وہ ا نہیں پہلی با ر د یکھ رہی تھی وہ نر م سی پیا ر کر نے و ا لی د ا دو تو کہیں سے بھی نہیں لگ ر ہی
تھی۔



”میں تو پہلے سے ہی جا نتا ہو ں بس آ پ کے شو ہر ا ور بچو ں کی آ نکھو ں پر پٹی بند ھی ہیں“ وہ ان کے ہا تھ سے فو ن لیتے ہو ئے بو لے تھے۔
”پھر بھی تم با ز نہیں آ ر ہے کا ن کھو ل کر سن لو ا گر د و با ر ہ میر ے رستے میں آ ئے تو صر ف گھر سے نکا لنے جتنا سا دہ نہیں ہو گا“ وہ د ھیمے لہجے میں غر ا ئی تھی۔
”میں آ پ کی ا ن د ھمکیو ں سے ڈر نے و ا لا نہیں ہو یہ آ پ بھی جا نتی ہیں میں ا یک ا ور معصو م کو آ پکی خو د غرضی کی بھینٹ نہیں چڑ ھنے دو ں گاچا ہے مجھے جو مر ضی کر نا پڑ ے“ وہ بھی ا نہی کی ز با ن میں بو لا تھااور و ہا ں سے چل د یے تھے اور جاتے ہو ئے ا یک نظر پلر کے پیچھے چھپی حو ر ین پر ڈ ا لی اور پھر چپ چا پ چلے گئے۔
اور د ادی بھی غصے سے پا ؤ ں پٹختی و ا پس لا ؤ نج میں چلی گئی اور پیچھے حو ر ین گم صم سی کھڑ ی تھی عا بد ا نکل نے جن نظر و ں سے ا سکی طر ف د یکھا تھا وہ صا ف تھا جیسے ا سے جتا رہی تھی کہ اب تو د یکھ لیا ا پنی د ا دی کا ا صلی چہر ہ میں نہ کہتا تھا وہ جیسی نظر آ تی ہیں و یسی نہیں ہیں۔
...................
حو ر ین و ہا ں سے ا پنے کمر ے میں آ گئی کا نو ں میں عا بد ا نکل کی آ وا زیں گو نج ر ہی تھی اور آ نکھو ں میں ان کی وہ نظر یں۔
” بیٹا آ پکی د ا دو کو جتنا میں جا نتا ہو ں ا تنا کو ئی بھی نہیں جا نتا یقین کر یں“ کا نو ں میں ا نکی آ و ا ز گو نجی تھی۔
”ہا ں ٹھیک کہا آ پ نے سو تن کی ا و لا د کو کو ن سینے سے لگا تا ہے پر اسے بہوبنا یا جا سکتا ہے اس سے وہ سب سلو ک کیا جا سکتا تھایہا ں تک کے اس کو غا ئب کر و ا یا جا سکتا ہے“ ا ن کی کہی ا یک ا ور با ت یا د آ ئی تھی اور پھر ا سے وہ یا د آ ئی صا لحہ ا بر ا ہیم جسے وہ ا پنی ذ ا ت میں ا لجھ کر بھو ل جا تی تھی ہر با رپہلے د ا دی کی و جہ سے ا ور اب خو د کی و جہ سے۔
”صا لحہ تمہا ر ے سا تھ جو بھی ہوا جس نے بھی کیا میں ا سے ا س کے کیے کی سز ا د لا کے ر ہو ں گی و عد ہ ر ہا“ وہ آ ئینے میں خو د کو د یکھتے ہو ئے بو لی تھی اس کا چہر ہ بتا ر ہا تھا اب وہ پیچھے نہیں ہٹے گی چا ہے جو مر ضی د ا ؤ پر لگے۔
...........................

جا ری ہے

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.